چانپ[1]

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - بندوق وغیرہ کا وہ پرزہ جس کے ذریعے کندہ اور نال باہم جڑے رہتے ہیں۔ "نال اور چانپ کے لوہوں کا فرق بے علمی اطلاع کے سمجھ میں نہیں آسکتا۔"    ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٢٦٤:١ ) ٢ - بندوق وغیرہ کا وہ حصہ جس میں شعلہ دینے کے واسطے چقماق پتھر رکھا جائے۔ "جاڑے میں . چانپ کے پتھر آگ نہ دیتے تھے"    ( ١٨٢٤ء، فسانۂ عجائب، ٢٠٩ ) ٣ - بندوق وغیرہ کی چانپ کی طرح ایک پرزہ یا آلہ جس سے مجرم کے کان زبان یا دیگر اعضا کو دبا کر اسے ایذا پہنچاتے ہیں کندہ۔  دیا خط دے کے کیوں پیغام اس بے جرم پر اس نے زبان پر تو چڑھائی چانپ دست نامہ برباندھے      ( ١٨٧٢ء، مظہر عشق، ١٧٧ ) ٦ - (زین سازی) وہ اوزار جس سے چمڑے کو سیتے وقت اس کی کور کو دباتے یا مضبوط پکڑتے ہیں؛ کلام؛ چٹکی۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 41:5) ٧ - (کرتے وغیرہ کی) کلیاں، (کپڑے وغیرہ کا) ٹکڑا، شق۔ "عرب کے کرتے طویل نصف ساق تک ہوتے تھے اور ان میں دائیں بائیں شق (چانپ) بھی نہیں ہوتی تھی۔"      ( ١٩٦٣ء، کشکول، ٢٨ ) ١ - کھال سے منڈھا ہوا لکڑی سے بجایا جانے والا طاشے کی قسم کا ایک ساز۔ "مرنہ . بطور چانپ کے گلے میں ڈال کر ایک چوب سے بجاتے ہیں"      ( ١٨٧٥ء، سرمایۂ عشرت، ٣٠٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'چاپن' سے ماخوذ اردو میں 'چانپ' بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٤ء میں "فسانۂ عجائب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بندوق وغیرہ کا وہ پرزہ جس کے ذریعے کندہ اور نال باہم جڑے رہتے ہیں۔ "نال اور چانپ کے لوہوں کا فرق بے علمی اطلاع کے سمجھ میں نہیں آسکتا۔"    ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٢٦٤:١ ) ٢ - بندوق وغیرہ کا وہ حصہ جس میں شعلہ دینے کے واسطے چقماق پتھر رکھا جائے۔ "جاڑے میں . چانپ کے پتھر آگ نہ دیتے تھے"    ( ١٨٢٤ء، فسانۂ عجائب، ٢٠٩ ) ٧ - (کرتے وغیرہ کی) کلیاں، (کپڑے وغیرہ کا) ٹکڑا، شق۔ "عرب کے کرتے طویل نصف ساق تک ہوتے تھے اور ان میں دائیں بائیں شق (چانپ) بھی نہیں ہوتی تھی۔"      ( ١٩٦٣ء، کشکول، ٢٨ ) ١ - کھال سے منڈھا ہوا لکڑی سے بجایا جانے والا طاشے کی قسم کا ایک ساز۔ "مرنہ . بطور چانپ کے گلے میں ڈال کر ایک چوب سے بجاتے ہیں"      ( ١٨٧٥ء، سرمایۂ عشرت، ٣٠٧ )

اصل لفظ: چاپن
جنس: مؤنث